Health
پی ٹی ایس ڈی کا جدید علاج، ایف ڈی اے کی جانب سے نئی ٹیکنالوجی منظور
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کے علاج کے لیے ایک نئی اور جدید طبی ٹیکنالوجی کو منظور کر لیا ہے۔ اس پیشرفت سے ذہنی صحت کے مسائل میں مبتلا افراد بالخصوص سابق فوجیوں کو زیادہ درست اور موثر طبی امداد فراہم کی جا سکے گی۔
واشنگٹن (نیکسو نیوز اردو) امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کے مرض سے نبرد آزما افراد کے لیے ایک نئی اور زیادہ درست طبی ٹیکنالوجی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ جدید علاج دماغی تھراپی پر مبنی ہے جو اس سنگین ذہنی عارضے کو براہ راست اس کے ماخذ پر ہدف بناتی ہے۔ اس نئے طریقہ کار سے امید کی جا رہی ہے کہ روایتی علاج کے مقابلے میں مریضوں کو زیادہ بہتر اور پائیدار نتائج حاصل ہوں گے۔ طبی ماہرین کے مطابق پی ٹی ایس ڈی ایک پیچیدہ نفسیاتی مسئلہ ہے جو شدید صدمے یا ناگوار واقعات کے بعد انسان کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے، اور اس نئی ٹیکنالوجی سے اس کے علاج میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، ریاستہائے متحدہ میں ہر روز تقریباً سترہ اعشاریہ پانچ سابق فوجی خودکشی کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ سات فیصد فوجیوں کو ہر سال باقاعدہ طور پر پی ٹی ایس ڈی کی تشخیص ہوتی ہے۔ یہ صورتحال طویل عرصے سے طبی ماہرین اور حکام کے لیے شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق فوجیوں اور دیگر صدمات کا شکار افراد کے لیے بروقت اور مؤثر علاج انتہائی ضروری ہے تاکہ قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ نئی ایف ڈی اے کلیئرنس ملنے کے بعد اس جدید ٹیکنالوجی کو طبی مراکز میں استعمال کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس سے نہ صرف علاج کے عمل میں تیزی آئے گی بلکہ اس کی درستگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
اس نئی ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دماغ کے مخصوص حصوں کو نشانہ بناتی ہے جو صدمے کے اثرات کو پروسیس کرتے ہیں۔ اس سے مریضوں کو وہ ریلیف ملنے کی امید ہے جو ماضی کے روایتی طریقوں سے ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔ ڈاکٹرز اور محققین اس پیشرفت کو ذہنی صحت کے شعبے میں ایک انقلابی قدم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے مریضوں کے بحالی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی اور وہ دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں گے۔
حکومت اور صحت کے اداروں کی جانب سے اس نئی ٹیکنالوجی کی ترویج اور اسپتالوں میں اس کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس علاج تک رسائی کو عام کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف پی ٹی ایس ڈی کے مریضوں کی علامات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ خودکشی کے دلخراش رجحان میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کے مزید طبی تجربات اور نتائج دنیا کے سامنے لائے جائیں گے۔