Technology
علی بابا کا مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے 10 ارب ڈالر کا فنڈز اکٹھا کرنے کا اعلان
چینی ای کامرس کمپنی علی بابا نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں آگے بڑھنے کے لیے شیئرز کی فروخت کے ذریعے دس ارب ڈالر سے زائد سرمایا جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم کمپنی کی تکنیکی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے اور مارکیٹ میں پوزیشن بہتر بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ نے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں اپنی حریف کمپنیوں کے ساتھ مسابقت کو مزید تیز کرنے کے لیے شیئرز کی فروخت کے ذریعے تقریباً 80 ارب ہانگ کانگ ڈالر یعنی لگ بھگ 10.2 ارب امریکی ڈالر کے فنڈز جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معروف چینی آن لائن ریٹیل اور ٹیکنالوجی ادارے کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور اے آئی کی صنعت میں عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے کس قدر پرعزم ہے۔ اس وقت عالمی منڈی میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ انتہائی عروج پر ہے اور تمام بڑی کمپنیاں اس میدان میں سبقت حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایا کاری کر رہی ہیں۔ اس سرمائے کے حصول کے بعد علی بابا اپنے کلاؤڈ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، اے آئی ماڈلز کی تربیت اور جدید ڈیجیٹل سروسز کو مزید وسعت دے سکے گا۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ مستقبل کی معیشت کا دارومدار مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر ہے، اور اس شعبے میں پیچھے رہ جانے والی کمپنیاں مارکیٹ سے باہر ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علی بابا نے اپنے سرمائے کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے شیئرز کی فروخت کا یہ بڑا فیصلہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فنڈنگ سے نہ صرف علی بابا کے مالیاتی ڈھانچے کو تقویت ملے گی بلکہ چینی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی ایک نئی جان پڑ جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی گہری دلچسپی ظاہر کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ اے آئی کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کو مستقبل کا سب سے منافع بخش کاروبار سمجھا جا رہا ہے۔ علی بابا کا شمار دنیا کے صف اول کے تکنیکی اداروں میں ہوتا ہے، اور حالیہ اقدامات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کمپنی آنے والے برسوں میں عالمی سطح پر اے آئی کی منڈی کا ایک اہم ترین کھلاڑی بن کر ابھرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔