Business
بھارت کی کھیلوں کے سامان کی برآمدات اور 2036 کا ہدف
نیتی آیوگ نے 2036 تک کھیلوں کے سازوسامان کی برآمدات کو آٹھ ارب ڈالر سے زائد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سستے خام مال، جدید ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور بین الاقوامی برانڈز کے ساتھ قریبی تعلقات پر زور دیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی میں منعقدہ آئی اے ایم جی اے ایم ای (IAMGAME) کانکلیو کے دوران صنعت کے سرکردہ رہنماؤں اور ماہرین نے اس بات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے کہ آیا بھارت کھیلوں کے سازوسامان کی تیاری اور برآمدات کے شعبے میں ایک بڑی عالمی طاقت بن سکتا ہے۔ نیتی آیوگ نے سال 2036 کے لیے ایک انتہائی اہم اور طویل المدتی ہدف مقرر کیا ہے جس کا مقصد اس صنعت کو 8.1 ارب ڈالر کی برآمداتی صنعت میں تبدیل کرنا ہے۔ اس پرجوش ہدف کے حصول کے لیے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور پالیسی سطح پر اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
کانکلیو کے دوران ماہرین کا کہنا تھا کہ اس ہدف کی کامیابی کا دارمدار سستے خام مال کی دستیابی، جدید ترین ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے قیام اور بندرگاہوں کے قریب پیدائشی کلسٹرز کی تشکیل پر ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری خریداری کے نظام میں اصلاحات لانے اور عالمی سطح کے مشہور کھیلوں کے برانڈز کے ساتھ قریبی کاروباری تعلقات قائم کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف ملکی سطح پر مینوفیکچرنگ کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ بین الاقوامی منڈی میں بھارتی مصنوعات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی دوچند ہو جائے گی۔
صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت میں کھیلوں کے سامان کی تیاری کے لیے بے پناہ صلاحیت موجود ہے، خاص طور پر روایتی کھیلوں کے سازوسامان کی تیاری میں یہاں کے کاریگروں کی مہارت مسلمہ ہے۔ تاہم، عالمی معیار کے مطابق سرٹیفیکیشن، لاجسٹکس کے مسائل اور فنانسنگ تک آسان رسائی وہ رکاوٹیں ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اگر حالیہ تجاویز اور نیتی آیوگ کی حکمت عملی پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو آنے والے برسوں میں بھارت کھیلوں کے آلات کی برآمد میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔