LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور نئی فیسوں کا اعلان

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے چھیالیس بحری جہازوں کو قواعد کی خلاف ورزی پر جرمانے اور حراست میں لینے کی سخت تنبیہ جاری کی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمانی کمیٹی نے اس اہم آبی گزرگاہ کو استعمال کرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے کے منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے۔
ایران نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی حساس سمجھے جانے والے خطے آبنائے ہرمز میں اپنی نگرانی سخت کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے 46 بحری جہازوں کو تنبیہ جاری کی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر ان جہازوں نے آبنائے ہرمز کی گزرگاہ سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کی تو ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں اور انہیں حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام خطے میں بحری سلامتی اور تزویراتی کنٹرول کے حوالے سے تہران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس پیشرفت کے ساتھ ہی تہران میں قانون سازی کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی ایک متعلقہ کمیٹی نے اس تجویز کو باقاعدہ طور پر منظور کر لیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو استعمال کرنے والے تجارتی جہازوں سے سروس فیس وصول کی جائے گی۔ پارلیمنٹ کے اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ آبی گزرگاہ مشرق وسطیٰ سے تیل اور دیگر اشیا کی عالمی منڈیوں تک ترسیل کا سب سے بڑا بحری راستہ ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں تجارتی جہاز رانی کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے تناظر میں سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ منگل کے روز تہران کا دورہ کریں گے جہاں وہ ایرانی اعلیٰ حکام سے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کو کم کرنے اور جہاز رانی کے امور پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ عالمی توانائی کی منڈیوں اور تجارت کے ماہرین نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس گزرگاہ سے روزانہ کی بنیاد پر دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل لے جانے والے جہاز گزرتے ہیں۔ ایران کی جانب سے فیسوں کے نفاذ اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی کے بعد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے بھی احتیاطی تدابیر پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔