World
امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں ایران تنازع کی وجہ سے منسوخ
امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع اور کشیدگی کے پیش نظر جنوبی کوریا کے ساتھ طے شدہ مشترکہ بحری اور زمینی مشقیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے خطے میں امریکی سکیورٹی پالیسیوں اور دفاعی تیاریوں کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع اور ممکنہ جنگی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مشترکہ بحری اور ایمفیبیئس (amphibious) فوجی مشقیں منسوخ کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو اپنی دفاعی صلاحیتوں اور افواج کو بیک وقت مختلف محاذوں پر تعینات کرنے میں کن چیلنجز کا سامنا ہے۔ دوسری طرف، ایشیائی خطے میں امریکہ کی اتحادی ممالک کے ساتھ سکیورٹی ضمانتوں کے حوالے سے بھی مباحثے شروع ہو چکے ہیں۔ جنوبی کوریا کی مسلح افواج اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ملکی دفاع کو کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے بچایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع نے واشنگٹن کی ترجیحات کو تبدیل کر دیا ہے، جس کے اثرات اب ایشیا پیسیفک کے خطے میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان ان مشترکہ مشقوں کا مقصد خطے میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانا تھا، تاہم اب ان کی منسوخی سے سکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے اتحادی ممالک کے باہمی دفاعی تعاون پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔