LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ کی تازہ ترین صورتحال: تیل سستا، تکنیکی شیئرز دباؤ کا شکار

News Image
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ٹیکنالوجی کے شیئرز پر بھی دباؤ برقرار ہے۔ دوسری جانب امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے بیان سے قبل سونے کی قیمتیں تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں آج شدید ہلچل دیکھنے میں آرہی ہے جہاں ایک طرف تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے تو دوسری طرف تکنیکی شعبے کے شیئرز پر بھی دباؤ برقرار ہے۔ وال اسٹریٹ اور دیگر اہم عالمی منڈیوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری رجحانات میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال آئندہ چند دنوں میں معاشی پالیسیوں اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ دوسری جانب خام تیل کی منڈیوں میں امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی اور سخت پابندیوں کے نفاذ کی تیاریوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کار اور تجارتی حلقے اس پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ کی توانائی کی سپلائی پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی اقتصادی امور اور مالیاتی منڈیوں میں آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر تکنیکی کمپنیوں کے حصص بھی دباؤ کی زد میں ہیں۔ معروف تکنیکی اداروں کے شیئرز میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے جس سے مجموعی انڈیکس متاثر ہوا ہے۔ اس تمام معاشی پس منظر میں قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں ایک الگ ہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری ہونے سے پہلے اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے متوقع خطاب کے پیش نظر سونے کی قیمتیں گزشتہ تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کے لیے سونے کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معیشت کی سمت کا دار و مدار امریکی مانیٹری پالیسی اور بین الاقوامی سیاسی کشیدگی میں کمی یا اضافے پر ہوگا۔