Business
سونے کی قیمتوں میں تین ماہ کی بلند ترین سطح پر اضافہ، افراط زر پر نظر
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور پیلا دھات تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سرمایہ کار اس وقت امریکہ سے آنے والے اہم افراط زر کے اعداد و شمار اور اقتصادی پالیسیوں کے منتظر ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جہاں سونے کے دام گزشتہ تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچے ہیں۔ سرمایہ کاروں اور تاجروں کی تمام تر توجہ اب امریکہ سے آنے والے افراط زر (انفلیشن) کے نئے اعداد و شمار پر مرکوز ہے، جو آنے والے دنوں میں عالمی معیشت اور شرح سود کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ اقتصادی ماحول میں سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران کے حوالے سے پابندیوں کی تفصیلات بھی مارکیٹ کے کھلاڑیوں کے زیر غور ہیں۔ یہ جغرافیائی سیاسی عوامل اور جنگی خدشات سونے کی قیمتوں کو مسلسل سہارا دے رہے ہیں، جس سے بیل (bulls) یعنی تیزی کے حامی سرمایہ کاروں کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے۔ वॉल اسٹریٹ اور مین اسٹریٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سونے کی منڈی میں فی الوقت تیزی کا رجحان غالب ہے اور قیمتیں مزید نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پی سی ای (PCE) کے اعداد و شمار اور امریکی معیشت کی سمت سونے کی طویل مدتی قیمتوں کا فیصلہ کریں گے۔ اگر افراط زر توقعات سے زیادہ رہتا ہے تو امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی مالیاتی پالیسی میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر کرنسی مارکیٹس اور سونے پر پڑے گا۔ فی الحال، عالمی سرمایہ کار انتہائی محتاط انداز میں قدم اٹھا رہے ہیں اور ہر نئی اقتصادی رپورٹ کے ساتھ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔