Business
امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ، کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر
امریکہ اور کینیڈا کے مابین محصولات بڑھنے کے تنازعے نے دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس تجارتی جنگ سے ان کے نصف کاروبار کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور درآمدی ٹیکسوں میں اضافے کے باعث دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں محصولات کے اس تبادلے نے تاجروں اور صنعت کاروں کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جہاں ہر کوئی اس بحران کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چھوٹے اور بڑے پیمانے پر کاروبار چلانے والے مالکان کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ان کی سالوں کی محنت رائیگاں جا سکتی ہے اور تجارتی مارکیٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی تجارت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن حالیہ تجارتی تنازعات نے اس باہم انحصار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تاجر برادری کا ماننا ہے کہ بڑھتے ہوئے درآمدی ٹیکس نہ صرف اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سبب بنیں گے بلکہ عام صارفین کی قوت خرید کو بھی شدید متاثر کریں گے۔ بہت سے کاروباری افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ حالات اتنے غیر یقینی ہیں کہ وہ طویل مدتی سرمایہ کاری یا نئے فیصلوں سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ان کا نصف کاروبار اس معاشی رسہ کشی کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ اور کینیڈا کی حکومتوں نے جلد از جلد باہمی مذاکرات کے ذریعے اس تجارتی تنازع کا کوئی مستقل حل نہ نکالا، تو اس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سپلائی چین کو بھی شدید جھٹکا لگے گا۔ تاجروں اور صنعت کاروں نے دونوں حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاشی استحکام کو ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سرحد پار کاروبار کے لیے تباہ کن ثابت ہوں۔ اس وقت صورتحال انتہائی نازک ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ تجارتی پابندیوں کا دائرہ کار وسیع ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔