LIVE
Loading Breaking News...

اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا نجی علاج کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

News Image
اڈیالہ جیل میں قید تین افراد نے طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے۔ درخواست میں بانی پی ٹی آئی کے علاج کے واقعے کا بطور مثال حوالہ دیا گیا ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید تین اہم قیدیوں نے اپنے نجی علاج اور بہتر طبی سہولیات کے حصول کے لیے باضابطہ طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) میں رٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔ اس قانونی کارروائی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل کے اندر قیدیوں کو قانون کے مطابق بنیادی صحت اور علاج معالجے کی معیاری سہولیات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے جو کہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔ قیدیوں کے وکلاء کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ انہیں جیل سے باہر کسی مستند نجی اسپتال میں اپنے خرچے پر علاج کروانے کی اجازت دی جائے۔ درخواست گزاروں نے اپنے کیس کی حمایت میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ طبی معائنے اور علاج کے حوالے کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے، جس سے اس کیس کی قانونی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے اور صحت کے معاملات پر کسی قسم کی تفریق یا تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری جانب، متعلقہ حکام اور جیل انتظامیہ کی جانب سے اس درخواست پر تاحال کوئی باضابطہ جوابی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ جلد ہی اس معاملے کی سماعت کرے گی اور فریقین کو نوٹس جاری کر کے رپورٹ طلب کرے گی۔ قانونی ماہرین اس پٹیشن کو جیل اصلاحات اور قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں، جس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں دیگر قیدیوں کے لیے بھی ایک نظیر بن سکتا ہے۔