LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی جوہری پالیسیاں اور عالمی سلامتی کے خطرات

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری امور سے متعلق خیالات اور ان کی پالیسیوں نے عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے اقدامات سے بین الاقوامی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے اس بات پر یقین رکھتے رہے ہیں کہ وہ جوہری معاملات کے ماہر ہیں، جس کی بڑی وجہ وہ اپنے چچا جان ٹرمپ کو قرار دیتے ہیں جو ایم آئی ٹی میں ایک طبیعیات کے پروفیسر تھے۔ سابق امریکی صدر نے متعدد مواقع پر اس بات کا اظہار کیا کہ وہ جوہری توانائی اور اس کے استعمال کی پیچیدگیوں کو بخوبی سمجھتے ہیں، لیکن ان کے ان خیالات نے عالمی سطح پر ہمیشہ سے تشویش اور بے چینی کو جنم دیا ہے۔ امریکہ کے سابق صدر کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں سے انخلا اور جوہری ہتھیاروں کے ذخیروں کو جدید بنانے کے اعلانات نے عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئی اسلحے کی دوڑ کو ہوا دی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی ان پالیسیوں کے نتیجے میں سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا توازن اب متزلزل ہو چکا ہے اور دنیا بھر میں جوہری کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اس مؤقف پر زور دیتے ہیں کہ ان کی پالیسیوں کا مقصد امریکہ کو مضبوط بنانا اور مخالفین کو دباؤ میں رکھنا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل سے دنیا بھر میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اتحادی ممالک بھی واشنگٹن کی اس بدلتی ہوئی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ اس سے عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسلحے کی اس دوڑ نے مستقبل کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری کو مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو جوہری خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں اور دنیا کو کسی بھی بڑی تباہی سے محفوظ رکھ سکیں۔