Technology
انٹرنیٹ کے تیسرے مقامات کا خاتمہ اور ڈیجیٹل دنیا کا مستقبل
انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت اور بورٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے انسانوں کے مل بیٹھنے اور گپ شپ کرنے کی جگہیں ختم ہو رہی ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں اس تبدیلی سے آن لائن روابط کی نوعیت یکسر بدل گئی ہے۔
موجودہ دور میں جب کوئی صارف سوشل میڈیا پر نظر دوڑاتا ہے تو اسے ہر طرف مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیار کردہ ویڈیوز، روبوٹک تبصرے اور بے مقصد بحثیں نظر آتی ہیں۔ اس لامتناہی مواد کے بیچ یہ یاد رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کسی زمانے میں انٹرنیٹ صرف معلومات کے تبادلے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک زندہ دل اور پُرسکون جگہ ہوا کرتا تھا جہاں لوگ حقیقی معنوں میں ایک دوسرے سے جڑتے تھے۔ ماضی میں فورمز، چیٹ رومز اور چھوٹی ویب سائٹس کو انٹرنیٹ کے تیسرے مقامات کہا جاتا تھا جہاں گھر اور دفتر کے علاوہ لوگ اپنے شوق اور خیالات کا آزادانہ اظہار کرتے تھے۔
تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے الگورتھمز اور کمرشل مفادات نے اس ماحول کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب بیشتر پلیٹ فارمز پر انسانوں کی بجائے خودکار بورٹس اور اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد کا راج ہے۔ یہ مصنوعی مواد اور مخصوص ردعمل اس بات کا سبب بن رہے ہیں کہ حقیقی صارفین اب ان ڈیجیٹل مقامات پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے کترانے لگے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، انٹرنیٹ کا وہ دیسی اور جاندار ماحول آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہے جس نے کبھی دنیا بھر کے لوگوں کو آپس میں جوڑا تھا۔
اس صورتحال نے ماہرینِ معاشیات اور ٹیکنالوجی کے محققین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈیجیٹل دنیا میں انسانوں کی موجودگی اور ان کے باہمی میل جول کے لیے محفوظ مقامات باقی نہ رہے، تو انٹرنیٹ صرف ایک اشتہاری بورڈ اور پروپیگنڈا کا مرکز بن کر رہ جائے گا۔ اس تنہائی پسندی اور مصنوعی ماحول کا براہِ راست اثر انسانی نفسیات پر بھی پڑ رہا ہے، کیونکہ لوگ ورچوئل دنیا میں بھی تنہا اور اجنبی محسوس کرنے لگے ہیں۔
اس بحران سے نکلنے کے لیے اب نئی نسل کے کچھ صارفین اور ڈویلپرز دوبارہ سے چھوٹے پیمانے پر نجی نیٹ ورکس، ڈسکارڈ گروپس اور پرانی طرز کی ویب سائٹس کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ان متبادل ذرائع کا مقصد انٹرنیٹ پر انسانی رابطوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور اے آئی کے تسلط سے پاک جگہیں بنانا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا انٹرنیٹ اپنے اس کھوئے ہوئے پرانے دور کو واپس پا سکے گا یا نہیں جہاں انسانوں کی آواز سب سے بلند تھی۔