LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ

News Image
سندھ حکومت نے کراچی میں میر رضا کے ہولناک قتل کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاملے پر گزشتہ تین ہفتوں سے کراچی میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پولیس بھی اہم شواہد اکھٹے کرنے میں مصروف ہے۔
کراچی میں میر رضا کے بہیمانہ قتل کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر سندھ حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام کیس کی غیر جانبدارانہ اور مکمل شفاف انکوائری کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور اصل مجرم قانون کی گرفت میں لائے جا سکیں۔ یاد رہے کہ اس اندوہناک واقعے کو تین ہفتے گزر چکے ہیں لیکن کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے احتجاج کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور لواحقین سمیت شہری انصاف کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ دوسری جانب پولیس تفتیش کاروں نے اس کیس کے حوالے سے اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول کے آخری چند گھنٹوں کے معمولات اور موت کے اسباب کو جوڑنے کے لیے شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے ڈیجیٹل فرانزک کی مدد لیتے ہوئے مقتول کی سم (SIM) اور واٹس ایپ (WhatsApp) کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا ہے، جس سے تفتیش کو آگے بڑھانے میں نمایاں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اس سے قبل مقتول میر رضا علی کے اہل خانہ نے بھی کیس کی جے آئی ٹی (JIT) تشکیل دینے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے حلقوں کا ماننا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست ایک مثبت قدم ہے جو تحقیقات کو شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ عوام اور مقتول کے لواحقین کی نظریں اب سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں تاکہ اس پراسرار اور دلخراش واقعے کے اصل محرکات سے پردہ اٹھ سکے۔