LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین کے لیے برطانوی میزائل امداد: کریملن کا شدید ردعمل اور سفیر کی واپسی

News Image
کریملن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو برطانوی میزائلوں اور فوجی امداد کی فراہمی تنازع کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ اس کشیدگی کے درمیان روس نے برطانیہ سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے۔
ماسکو: کریملن نے ایک بار پھر مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے لیے جدید میزائلوں اور عسکری امداد کی فراہمی تنازع کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ترجمان کریملن کا کہنا ہے کہ برطانوی ہتھیاروں کی فراہمی براہ راست جنگ میں کشیدگی بڑھانے اور آگ میں تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس تازہ بیان سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔دوسری جانب روس نے برطانیہ کے ساتھ جاری سفارتی محاذ آرائی کے دوران لندن سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور سرد جنگ جیسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ماسکو پہلے ہی بارہا خبردار کر چکا ہے کہ کیف کو فراہم کیے جانے والے مغربی ہتھیاروں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور اس سے براہ راست تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔برطانوی میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق برطانوی ساختہ ڈرونز اور میزائل حالیہ دنوں میں روسی سرزمین کے اندر گہرائی تک حملوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین پر ان ہتھیاروں کا استعمال مغرب کی براہ راست شمولیت کا واضح ثبوت ہے۔ کریملن کے مطابق ایسی کارروائیاں امن کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا رہی ہیں اور اس کا مقصد جنگ کو طویل کرنا ہے۔بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ روس اور برطانیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پوری دنیا خصوصاً یورپ کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید سرد مہری آ سکتی ہے کیونکہ ماسکو نے مغربی حمایت یافتہ حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔