LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے خلاف نوکری چھوڑنے والی خاتون کی کہانی

News Image
گیبریل بوائل نے مائیکروسافٹ کے اے آئی اسسٹنٹ کے نفاذ سے صرف تین دن قبل اپنی خوابوں کی نوکری سے استعفا دے دیا۔ وہ چاہتی ہیں کہ دوسرے لوگ بھی مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے خلاف ایسا ہی قدم اٹھائیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو اپنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، وہیں کچھ افراد اس کے خلاف عملی احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک واقعے نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، جہاں ایک خاتون نے مصنوعی ذہانت کے نظام کیخلاف اپنے شدید تحفظات کے پیش نظر اپنی خوابوں کی نوکری کو خیرباد کہہ دیا۔ اس فیصلے نے کارپوریٹ کلچر اور ٹیکنالوجی کے انسانی زندگی پر اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، گیبریل بوائل نامی اس خاتون نے مائیکروسافٹ کے مصنوعی ذہانت پر مبنی اسسٹنٹ کے باضابطہ نفاذ سے محض تین دن قبل اپنی ملازمت سے استعفا دینے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو اپنے کام اور روزمرہ کے امور میں شامل کرنے پر بالکل رضامند نہیں تھیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ انسانی صلاحیتوں اور روزگار کے مواقع کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ گیبریل کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر لوگ اس تبدیلی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تو ادارے مکمل طور پر خودکار نظام پر انحصار کرنے لگیں گے۔ اپنے اس جرات مندانہ قدم کے بعد گیبریل بوائل کو امید ہے کہ دیگر پروفیشنلز بھی ان کی پیروی کریں گے اور اپنی پیشہ ورانہ اقدار کا دفاع کرتے ہوئے غیر ضروری آٹومیشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ان کا استعفا محض ایک نوکری چھوڑنے کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس فکری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے جو آج کے دور میں انسان اور ٹیکنالوجی کے درمیان بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ مستقبل میں کارپوریٹ پالیسیوں اور ملازمین کے حقوق کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔