World
پرنسس مارگریٹ کے پوتے اور شاہی خاندان کی روایت شکن کہانی
برطانیہ کی آنجہانی پرنسس مارگریٹ کی فیملی اور ان کے پوتے نواتوں کے بارے میں تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یہ خاندان اب بھی ان کے روایتی باغیانہ انداز اور آزاد خیال نظریات پر عمل پیرا ہے۔
برطانیہ کی تاریخ میں ہمیشہ ایک الگ اور دلکش مقام رکھنے والی پرنسس مارگریٹ کی شخصیت اپنے منفرد انداز اور روایت شکن فیصلوں کی وجہ سے جانی جاتی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کا خاندان کسی روایتی شاہی دباؤ یا شناخت تک محدود نہ رہے۔ ان کا یہ تاریخی جملہ آج بھی یاد کیا جاتا ہے کہ میرے بچے شاہی نہیں ہیں، بس اتفاق سے ان کی خالہ ملکہ ہیں۔ اس سوچ نے ان کے بعد آنے والی نسلوں کی تربیت پر بھی گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ پرنسس مارگریٹ کی اس باغیانہ روح اور آزاد خیالی کی جھلک آج بھی ان کے پوتے نواتوں اور اولاد میں صاف دکھائی دیتی ہے جو شاہی ضابطوں کی سختی سے دور ایک عام اور آزاد ماحول میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ شاہی مبصرین کے مطابق مارگریٹ کا یہ نظریہ ان کے خاندان کے لیے ایک ڈھال کی طرح رہا ہے جس نے انہیں شاہی دربار کے دباؤ سے محفوظ رکھا۔ ان کے بچوں اور پوتوں نے ہمیشہ اس بات کو ترجیح دی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ شناخت خود بنائیں اور شاہی تعلقات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو منوائیں۔ حالیہ برسوں میں ان کے خاندان کے افراد کی جانب سے اختیار کیا گیا طرزِ زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پرنسس مارگریٹ کا یہ نظریہ آج بھی پوری طرح زندہ اور توانا ہے۔ برطانوی شاہی خاندان کے اندر اس قسم کی آزادی اور روایت سے ہٹ کر سوچنے کا انداز بہت کم دیکھنے میں آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مارگریٹ کا خاندان ہمیشہ سے میڈیا اور عوام کے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ ان کے پوتے نواتے اپنی روزمرہ کی زندگی میں جس سادگی اور خودمختاری کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پرنسس مارگریٹ کی تربیت کے اثرات آج بھی نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں اور ان کی باغی روح تاحال برقرار ہے۔