LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین میں سیاسی بحران: صدر زیلنسکی اور کرپشن کے الزامات پر تازہ ترین رپورٹ

News Image
یوکرین کے سابق وزیرِ دفاع نے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت میں کرپشن کے معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگی صورتحال میں انتخابات کرانا یوکرین کو تقسیم کر دے گا۔
یوکرین کے برطرف وزیرِ دفاع نے ملک کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے خلاف سنگین نوعیت کے بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت میں پھیلی ہوئی کرپشن کے معاملے پر صدر کو کچھ اہم سوالات کے جوابات دینا ہوں گے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی روس کے ساتھ جاری طویل جنگ کی وجہ سے شدید ترین داخلی اور خارجی دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بیان کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ایک اہم سرکاری شخصیت کی جانب سے اندرونی معاملات پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب، صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان تمام اندرونی دباؤ اور تنقید کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نازک جنگی صورتحال میں ملک کے اندر عام انتخابات کا انعقاد کرانا تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس وقت انتخابات کروائے گئے تو یہ قدم یوکرین کے عوام اور سیاسی ڈھانچے کو بری طرح تقسیم کر دے گا، جو کہ ملک کی سلامتی کے خلاف ہے۔ صدر کے مطابق، اس وقت قوم کی اولین ترجیح صرف اور صرف ملکی دفاع اور یکجہتی ہونی چاہیے نہ کہ سیاسی رسہ کشی اور انتخابی مہم۔ یہ سیاسی کھینچاتانی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب یوکرین کو میدانِ جنگ میں بھی کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومت کے اندرونی اختلافات اور کرپشن کے الزامات ملک کی دفاعی صلاحیت اور بین الاقوامی اتحادیوں کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں اور ناقدین کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ تلخی ملک کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جس پر مغربی ممالک کی بھی گہری نظر ہے۔