World
ہاؤس آف ٹیرر کیس: بچوں پر تشدد پر ماں اور نانی کو قید
برطانیہ میں بچوں کو شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے اور بھوکا رکھنے کے جرم میں ماں، نانی اور سوتیلے باپ کو عدالت نے قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ اس خوفناک مقدمے کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان نے گھر کو بچوں کے لیے دہشت کا مرکز بنا رکھا تھا۔
برطانیہ میں ایک انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے بچوں پر وحشیانہ تشدد کرنے والے تین افراد کو قید کی سزائیں دی ہیں۔ اس بدترین کیس میں ملوث مجرموں میں بچوں کی اپنی ماں شرلی فری مین، ان کی نانی جولیا اسٹیفن اور سوتیلا باپ ڈیوڈ میک کول شامل ہیں، جنہیں بچوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا مرتکب پایا گیا۔ عدالت میں استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد کے مطابق ان مجرموں نے گھریلو ماحول کو ایک ایسی دہشت گاہ میں تبدیل کر رکھا تھا جہاں معصوم بچوں کو ہر وقت خوف اور یاتنا کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ متاثرہ بچوں کو نہ صرف بہیمانہ طریقے سے مارا پیٹا جاتا تھا بلکہ انہیں خوراک سے بھی محروم رکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی اور جسمانی کمزوری کا شکار ہو گئے۔ اس کے علاوہ بچوں پر شدید نفسیاتی دباؤ ڈالا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھا سکیں۔ پولیس اور فلاحی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان بچوں کو اس عذاب سے نجات دلائی اور فوری طور پر طبی امداد اور تحفظ فراہم کیا۔
عدالت نے سماعت کے دوران اس بات کا اعادہ کیا کہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور ان پر تشدد کسی بھی صورت میں ناقابل معافی جرم ہے۔ جج نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تینوں مجرموں کو ان کے سفاکانہ جرائم پر طویل قید کی سزائیں سنائیں۔ قانونی ماہرین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشرے میں ایک مضبوط پیغام جائے گا کہ بچوں پر ظلم کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔