Technology
ایلون مسک xAI کا منیسوٹا کے ڈیپ فیک قوانین کیخلاف مقدمہ
ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت پر مبنی کمپنی ایکس اے آئی (xAI) نے منیسوٹا ریاست کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ اس نئے قانون کے خلاف دائر کیا گیا ہے جو ویب سائٹس اور ایپس پر نڈیفیکیشن ٹیکنالوجی یعنی ڈیپ فیک تصاویر بنانے پر پابندی عائد کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف شخصیت ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنی 'ایکس اے آئی' (xAI) نے امریکی ریاست منیسوٹا کے خلاف ایک اہم مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ قانونی قدم منیسوٹا کی طرف سے پاس کیے گئے اس منفرد قانون کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، جس میں آن لائن پلیٹ فارمز، ویب سائٹس اور موبائل ایپلی کیشنز پر 'نڈیفیکیشن' یا ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے فحش اور نامناسب مواد تیار کرنے پر سخت پابندی عائد کی گئی تھی۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ قانون اظہار رائے کی آزادی اور تکنیکی جدت طرازی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ مقدمہ اس بات کا فیصلہ کرنے میں ایک اہم ٹیسٹ کیس ثابت ہوگا کہ امریکی ریاستیں ڈیپ فیک اور اے آئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کتنی دور تک جا سکتی ہیں۔ منیسوٹا کا شمار ان ریاستوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اے آئی کے دور میں خواتین اور عام شہریوں کی ڈیپ فیک تصاویر بنانے والی ٹیکنالوجی کے خلاف سب سے پہلے قانون سازی کی۔ ریاست کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون شہریوں کے بنیادی حقوق، پرائیویسی اور ڈیجیٹل تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی فرد کی رضامندی کے بغیر اس کی ڈیپ فیک اور شرمناک تصاویر نہ بنائی جا سکیں۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی کمپنیوں کا یہ استدلال ہے کہ اس قسم کے وسیع اور مبہم قوانین اوپن سورس اے آئی ماڈلز اور ڈیولپرز کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس مقدمے کے نتیجے میں آنے والے عدلیہ کے فیصلے کا اثر نہ صرف منیسوٹا بلکہ پورے امریکہ میں اے آئی ریگولیشنز اور قوانین پر گہرا اثر پڑے گا، اور یہ ڈیجیٹل دور میں آزادی اظہار اور ریاست کے اختیار کے درمیان ایک اہم معرکہ بن چکا ہے۔