Pakistan
میر رضا قتل کیس: اہل خانہ کا سندھ ہائی کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیخلاف درخواست
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کے معاملے پر ان کے اہل خانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ ورثا نے عدالت سے استدع کی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے بجائے ایک غیر جانبدار اور آزاد جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔
کراچی کے رہائشی پچیس سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کے مبینہ واقعے کے بعد قانونی جنگ میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ مقتول کے اہل خانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے اس مقدمے کی تحقیقات کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ یہ ڈویلپمنٹ اس وقت سامنے آئی جب سندھ حکومت نے اہل خانہ اور ان کے وکیل کی مخالفت کے باوجود اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس کمیشن کی سربراہی کے لیے جسٹس عمر سیال کو نامزد کیا ہے جس کا باقاعدہ عدالتی مراسلہ بھی جاری ہو چکا ہے۔ مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے معروف وکیل جبران ناصر کے توسط سے دائر کی جانے والی اس آئینی درخواست میں صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سمیت انیس فریقین کو نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے کو کالعدم قرار دے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی کسی بھی کارروائی کو بھی معطل کرے۔ مقتول کے لواحقین کا مؤقف ہے کہ جوڈیشل کمیشن فوجداری تحقیقات کرنے یا چالان پیش کرنے کا مجاز نہیں ہے اور یہ متبادل کے طور پر جے آئی ٹی کا نعم البدل ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے درخواست میں ایک آزاد، غیر جانبدار اور کثیر ایجنسیوں پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم یعنی جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی گئی ہے جس میں سندھ پولیس کے علاوہ رینجرز، ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندے شامل ہوں۔ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ جے آئی ٹی کا سربراہ بے داغ شہرت کا حامل کوئی سینئر افسر ہو جو اس کیس میں پہلے کبھی شامل نہ رہا ہو۔ درخواست گزاروں نے پولیس کے بعض اعلیٰ افسران کے کردار کی انکوائری اور انہیں عہدوں سے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ یاد رہے کہ میر رضا علی مردہ حالت میں پائے گئے تھے اور ان کے ورثا شروع سے ہی اس معاملے میں پولیس کی ابتدائی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں۔