Technology
خلائی ٹیکنالوجی اور اے آئی: جغرافیائی مستقبل کی تشکیل پر اہم بیان
بھارتی وزیر نے خلائی شعبے کی نجکاری کو مواقع کی جمہوری کاری قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ممالک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق کو ملکی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
نئی دہلی میں منعقدہ ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر شیکھاوت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کا انضمام مستقبل میں کسی بھی ملک کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کو طے کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی اب صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات سے ملکی معیشت اور سائنسی صلاحیتوں کو بھی جلا ملے گی۔تقریب سے خطاب کے دوران وزیر موصوف نے خلائی شعبے کی نجکاری کے عمل کو سراہتے ہوئے اسے مواقع کی جمہوری کاری (democratisation of space opportunities) سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کی شمولیت سے نہ صرف مقابلے کی فضا قائم ہوتی ہے بلکہ اس سے سستی اور جدید ترین خدمات بھی عامتہ الناس تک پہنچتی ہیں۔ یہ تقریب اسپیس ایپلیکیشنز سینٹر (SAC)، انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) اور محکمہ سائنس کے اشتراک سے منعقد کی گئی تھی، جس میں ملک بھر سے سائنسدانوں، محققین اور صنعت کاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت اور خلائی ٹیکنالوجی کا ملاپ روایتی صنعتوں کو یکسر بدل رہا ہے۔ وزیر شیکھاوت نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ حکومت ملک کے اندر ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے جہاں جدید سائنسی ایجادات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں تاکہ عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے اور ملک کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی بلندی پر پہنچایا جا سکے۔