World
یوکرین روس جنگ اور برطانوی رہنما برہم کا اہم دورہ
برہم نے یوکرین کی روس کے خلاف جنگ کا موازنہ برطانیہ کی نازی جرمنی کے خلاف جنگ سے کیا ہے۔ اس دورے کے دوران برطانیہ نے یوکرین کے لیے اپنی سو فیصد حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
برہم نے یوکرین کا دورہ شروع کرتے ہوئے یوکرین کی روس کے خلاف جاری جنگ کا موازنہ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے خلاف برطانیہ کی تاریخی جنگ سے کیا ہے۔ ان کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔ برہم نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ یوکرین کی حمایت میں سو فیصد پرعزم ہے اور مشکل وقت میں یوکرین کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
اس دورے اور بیانات کے دوران روس اور برطانیہ کے باہمی تعلقات میں مزید تلخی دیکھنے میں آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین تنازعے کے تناظر میں لندن سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے، جو دونوںممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی بحران کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری جانب، کریملن کا کہنا ہے کہ یوکرین کے لیے برطانوی میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے اور یہ اقدامات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی ڈرونز کو مبینہ طور پر مین لینڈ روس کے اندر گہرے حملوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے، جس سے اس جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ماسکو نے ان مغربی کارروائیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جبکہ برطانوی حکومت یوکرین کے دفاع کے لیے اپنی امداد اور عزم کو برقرار رکھنے پر بضد ہے۔ دنیا بھر کی نگاہیں اس وقت اس تنازعے اور مغربی ممالک کے بڑھتے ہوئے کردار پر لگی ہوئی ہیں۔