Pakistan
پاکستان کا صومالیہ میں ہائی جیک بحری جہاز کے عملے کی رہائی کا مطالبہ
پاکستان نے صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک ہونے والے تیل بردار بحری جہاز اور اس کے پاکستانی عملے کی فوری بازیابی کے لیے عالمی سمندری ادارے سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں اس سنگین صورتحال کو اٹھایا۔
اسلام آباد اور لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے ہتھے چڑھنے والے آئل پروڈکٹس ٹینکر 'آنر 25' اور اس کے پاکستانی عملے کی فوری اور بحفاظت رہائی کے لیے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) سے فوری اور موثر مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اغوا ہونے والے ملاحوں کے اہل خانہ نے سخت احتجاجی مظاہرے کیے اور اپنے پیاروں کی باحفاظت واپسی کے لیے حکومت سے فوری اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن میں آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ اہم ملاقات کی جس دوران یہ معاملہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اٹھایا گیا۔ ملاقات کے دوران پاکستانی ناظم الامور اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے سیکرٹری جنرل کو عملے کو درپیش سنگین خطرات سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ سمندری حدود میں بڑھتی ہوئی قزاقوں کی کارروائیاں عالمی تجارت اور معصوم انسانی جانوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہیں جن کی روک تھام کے لیے عالمی اداروں کو اپنا فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب سفارتی اور انتظامی ذرائع بروئے کار لارہا ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ دوسری طرف، کراچی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں ملاحوں کے اہل خانوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے پیاروں کی فوری بازیابی کے نعرے درج تھے۔ خاندانوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس انسانی المیے کو حل کرنے کے لیے اپنی تمام تر سفارتی صلاحیتیں استعمال کرے تاکہ عملے کے ارکان کسی جانی نقصان سے قبل بحفاظت اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ اس معاملے پر مسلسل بین الاقوامی شراکت داروں اور متعلقہ سمندری سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ 'آنر 25' کے تمام عملے کو جلد از جلد بازیاب کرایا جا سکے۔