AI
ہندوستان کو بنیادی اے آئی کی دوڑ میں سرمایہ اور ٹیلنٹ کے چیلنجز
مینلو وینچرز کے پارٹنر ڈیڈی داس نے کہا ہے کہ ہندوستان کو عالمی سطح پر مسابقتی بنیادی مصنوعی ذہانت کمپنیاں بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہندوستان میں اعلی درجے کا تحقیقی ٹیلنٹ زیادہ تر سان فرانسسکو تک محدود ہے اور بڑے، زیادہ خطرے والے سرمائے کی بھوک کم ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی بڑھتی ہوئی دوڑ کے دوران ہندوستان کو اس شعبے میں کئی اہم نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ نامور سرمایہ کار ادارے مینلو وینچرز کے پارٹنر ڈیڈی داس نے اکنامکس ٹائمز ورلڈ لیڈرشپ سمٹ کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان کے لیے عالمی سطح پر مسابقتی بنیادی اے آئی کمپنیاں قائم کرنا فی الحال ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ ان کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات میں مالی سرمائے کی کمی اور بہترین تحقیقی ٹیلنٹ کا فقدان شامل ہیں۔
ڈیڈی داس نے وضاحت کی کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ اعلیٰ ترین تحقیقی ٹیلنٹ اس وقت بنیادی طور پر سان فرانسسکو اور چند دیگر مغربی مراکز تک محدود ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ، ہندوستان کے مقامی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر اور زیادہ خطرے والے فنڈز یا سرمایہ کاری فراہم کرنے کی خواہش نسبتاً کم پائی جاتی ہے، جو کہ بنیادی اے آئی ماڈلز کی تیاری کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
بنیادی یا فاؤنڈیشنل اے آئی ماڈلز تیار کرنے کے لیے نہ صرف کروڑوں ڈالر کے خطرے والے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ دنیا کے بہترین ذہنوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان کو عالمی اے آئی مارکیٹ میں اپنا مؤثر مقام بنانا ہے تو اسے مقامی سطح پر سرمایہ کاری کے رجحانات کو تبدیل کرنا ہوگا اور نوجوان ٹیلنٹ کو اندرون ملک ہی بہترین مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں کس طرح امریکہ اور چین جیسے ممالک کے ساتھ اے آئی کی اس ٹیکنالوجی جنگ میں مقابلہ کر سکتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہندوستان کے پالیسی سازوں اور ٹیک کمپنیوں کو اس خلا کو پر کرنے کے لیے سنجیدہ حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ ملک عالمی معیار کے اے آئی ایکو سسٹم میں پیچھے نہ رہ جائے۔