World
ایران کی امریکہ کے خلاف معاشی جنگ اور جوابی کارروائی کی دھمکی
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور معاشی جنگ کے تناظر میں تہران نے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور خطے میں بحری راستوں کی سکیورٹی پر شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔
ایران نے باضابطہ طور پر انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے جو امریکہ کی جانب سے تہران کے خلاف چھیڑی گئی معاشی جنگ کا حصہ بنے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوںممالک کے درمیان مہینوں سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششیں فی الحال تعطل کا شکار نظر آتی ہیں اور اس صورتحال نے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
خطے میں کشیدگی کی ایک اہم وجہ آبنائے ہرمز کے راستے ہونے والی جہاز رانی ہے، جہاں تجارتی جہازوں کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے عائد کردہ اقتصادی پابندیاں براہ راست ایرانی عوام کو نشانہ بنا رہی ہیں، اور تہران اس معاشی محاصرے کو توڑنے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور دفاعی حکمت عملی اپنانے پر غور کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگر اس تنازع میں مزید ممالک نے امریکہ کا ساتھ دیا تو صورتحال خطرناک حد تک بگڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب، بین الاقوامی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ اس معاشی جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس بحران کا واحد حل پرامن مذاکرات اور سفارتی مفاہمت میں پنہاں ہے، بصورت دیگر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں عالمی امن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔