Business
علی بابا کا مصنوعی ذہانت کی توسیع کے لیے بڑا مالیاتی اقدام
چینی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی علی بابا نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ہانگ کانگ میں 95 ہزار کروڑ روپے مالیت کے نئے حصص فروخت کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ اس فنڈنگ کا بنیادی مقصد جدید ترین مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کو وسعت دینا ہے۔
علی بابا گروپ ہولڈنگ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے اور اسے وسعت دینے کے لیے ہانگ کانگ میں تقریباً 95 ہزار کروڑ روپے (10.2 ارب امریکی ڈالر) کے نئے حصص فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دنیا میں جاری سخت مسابقت کے پیش نظر علی بابا کا یہ قدم انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس پوری رقم کو خصوصی طور پر مصنوعی ذہانت کے جدید پراجیکٹس اور تحقیق کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، الفابیٹ اور انٹیل کے بعد کارپوریٹ تاریخ میں یہ تیسرا سب سے بڑا فالو آن شیئر ایشو ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی ٹیکنالوجی کے ادارے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اے آئی (AI) انفراسٹرکچر پر کتنا زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ علی بابا کے اس بڑے اقدام سے سرمایہ کاروں میں بھی ایک نئی ہلچل مچ گئی ہے اور ہانگ کانگ کے حصص بازار میں اس پیش رفت کو انتہائی مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، اور علی بابا اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ اس بھاری سرمائے کی مدد سے کلاؤڈ کمپیوٹنگ، الگورتھم کی بہتری اور اے آئی پر مبنی نئی مصنوعات کی تیاری میں تیزی لائی جائے گی، جس سے نہ صرف کمپنی کی مالیاتی پوزیشن بہتر ہوگی بلکہ ڈیجیٹل مارکیٹ میں اس کا غلبہ بھی مزید مضبوط ہوگا۔