World
ایران کے خلاف ہائبرڈ جنگ اور مخصوص بموں کا استعمال، نگران وزیر دفاع کا بیان
ایران کے نگران وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کو ایک غیر معمولی ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے۔ اس جنگ میں سائبر، عسکری اور پراکسی عناصر کے علاوہ ایسے بم بھی شامل ہیں جو خاص طور پر ایران کے خلاف استعمال کے لیے تیار کیے گئے تھے۔
تہران: ایران کے نگران وزیر دفاع نے ایک اہم اور چشم کشا بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اس وقت تاریخ کی ایک غیر معمولی اور بے مثال ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے۔ اس همہ گیر جنگ کے دوران ملک کو نہ صرف اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ مختلف محاذوں پر بیک وقت سازشیں بھی رچی جا رہی ہیں جن میں سائبر حملے، عسکری دباؤ، پراکسی گْروپس اور ملک دشمن عناصر سرگرم عمل ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ دشمن کی جانب سے ایران کو نقصان پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ہائبرڈ جنگ کے تناظر میں بعض مہلک ہتھیار اور بم اس نوعیت کے تیار کیے گئے ہیں جنہیں خاص طور پر ایران کے خلاف استعمال کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ یہ انکشاف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور بیدار ہیں۔ ملک کی دفاعی صلاحیتیں اتنی مضبوط ہیں کہ وہ اس طرح کی تمام جارحانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایران کو سائبر سکیورٹی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جنہیں ماہرین نے ہائبرڈ جنگ ہی کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، تہران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور سکیورٹی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایران کے عسکری حلقے ملک کی خود مختاری اور دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر طریقے سے دفاع کیا جا سکے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔