Business
بجلی ٹیرف میں اضافے کا امکان اور نیپرا کی ڈسکہ رپورٹس
بجلی کی طلب میں کمی کے باعث حکومت کی جانب سے ایک نئے پاور ٹیرف پیکیج پر غور کیا جا رہا ہے۔ نیپرا کے اجلاس کے دوران پاور کمپنیوں کی ناقص کارکردگی پر کڑی تنقید بھی کی گئی ہے۔
اسلام آباد (نیکسو نیوز اردو) ملک میں بجلی کے صارفین کو ایک بار پھر اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں فی یونٹ ایک روپے بیس پیسے تک ٹیرف بڑھائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی کی طلب میں کمی واقع ہونے کے بعد حکومت ایک نئے پاور ٹیرف پیکیج متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے تاکہ کھپت کو دوبارہ سے فروغ دیا جا سکے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی جانب سے تجاویز تیار کی جا رہی ہیں جن پر جلد حتمی فیصلے متوقع ہیں۔ دوسری جانب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے حالیہ اجلاس میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں یعنی ڈسকোس کی ناقص کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ نیپرا کے ارکان نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نظام پر کڑے سوالات اٹھائے اور ان کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا۔ اجلاس کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ بعض مقامات پر لائن لاسز کے اعداد و شمار میں مبینہ ہیرا پھیری کی گئی ہے جس پر نیپرا کے ایک رکن نے پاور حکام پر کڑی تنقید کی۔ اس دوران پندرہ ارب روپے سے زائد کے فیول ایڈجسٹمنٹ اضافے کا بوجھ بھی صارفین پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ کیا گیا تو اس سے مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاور سیکٹر کے اسٹرکچرل مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھائے تاکہ نہ صرف صارفین کو ریلیف مل سکے بلکہ معیشت کا یہ اہم شعبہ بھی پٹڑی پر واپس آ سکے۔