World
ٹرمپ کا شمالی کوریا گامبت اور ایشیا میں امریکی اعتبار کے بحران
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شمالی کوریا سے متعلق حالیہ اقدامات اور بیانات نے ایشیا میں واشنگٹن کی ساکھ اور بھروسے پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جنوبی کوریا کی جانب سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی صورتحال کے پیش نظر مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے حوالے سے اختیار کردہ حکمت عملی نے ایشیائی خطے میں واشنگٹن کی سٹریٹجک پالیسی اور اعتبار پر گہرے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ تجارتی اور دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب ایشیا کو متعدد سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہے، امریکی عزم میں کمی کے تاثر سے اتحادی ممالک میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ جنوبی کوریا نے حال ہی میں یہ تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری تناؤ اور جنگی خطرات کے باعث دونوں ممالک کی آنے والی مشترکہ میرین فوجی مشقیں منسوخ کر دی ہیں۔ اس فیصلے کو خطے میں امریکی ترجیحات میں تبدیلی اور سکیورٹی وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، کوریائی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے بعض دعوؤں اور علاقائی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو پر بھی سائلین اور بیجنگ کے حلقوں میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ سئول کی جانب سے بعض دعوؤں کی تردید نے دونوں روایتی اتحادیوں کے درمیان ابلاغی خلیج کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ایشیائی سکیورٹی کے تناظر میں، یہ صورتحال ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب خطے کے ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے سائے میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فوجی مشقوں کی منسوخی اور غیر یقینی بیانات سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ واشنگٹن اپنی توجہ دیگر عالمی تنازعات جیسے کہ مشرق وسطیٰ کی طرف مبذول کر رہا ہے، جس کی قیمت ایشیائی اتحادیوں کو سکیورٹی خلا کی صورت میں چکانا پڑ سکتی ہے۔