World
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حملوں کی تیاری اور پتنگوں کا بہانہ
اسرائیل نے جنگ زدہ علاقے سے پتنگوں،ڈرون اور غباروں کے استعمال پر فلسطینی گروپوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ اس اقدام کو غزہ میں مزید حملوں اور جارحیت کو جواز فراہم کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال قرار دیا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے حساس ترین علاقے غزہ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جب اسرائیل کی جانب سے جنگ زدہ انکلیو میں حملوں کو مزید تیز کرنے کے لیے عجیب و غریب بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے فلسطینی گروپوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ محاصرہ شدہ علاقے سے پتنگیں، ڈرون اور غبارے اڑانے کے عمل سے باز رہیں ورنہ اس کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے الزامات دراصل غزہ پر پہلے سے جاری ظالمانہ اور شدید حملوں کو جواز فراہم کرنے کا ایک حربہ ہیں۔ فلسطینی عوام جو پہلے ہی برسوں سے جاری ناکہ بندی اور تباہ کن جنگی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، اس نئی دھمکی کے بعد مزید شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس قسم کے بیانات سے خطے میں امن کی بحالی کی تمام تر کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور جنگ بندی کے امکانات مزید معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔