LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا اعلان: حماس کی تخفیفِ اسلحہ کا معاہدہ طے پا گیا

News Image
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ آف پیس نے حماس کے عسکری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل اور حماس کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ پر نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ آف پیس نے حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے ہتھیار پھینکنے اور مکمل تخفیفِ اسلحہ کے حوالے سے ایک تاریخی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام اور غزہ میں جاری کشمکش کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر شدید سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی قیادت اس معاہدے کو خطے میں استحکام لانے کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کے تحت عسکریت پسندوں کو اپنے ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ تاہم، اس حوالے سے حتمی خاکہ اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس اچانک اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور عالمی میڈیا کی توجہ اس نئے سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہو گئی ہے۔ دوسری طرف، اسرائیل اور حماس دونوں کی طرف سے اس مبینہ معاہدے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل یا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاہدے کی شرائط اور زمینی حقائق کے درمیان کئی پیچیدگیاں حائل ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک اسرائیل اور حماس خود اس معاہدے کی توثیق نہیں کرتے، اس کی کامیابی کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا یہ معاہدہ عملی جامہ پہن پاتا ہے یا نہیں، اور کیا اس سے غزہ میں امن کی راہ ہموار ہوگی۔