AI
اے آئی فراڈ اور ڈیپ فیک سکیمیں: دنیا بھر میں کروڑوں کا نقصان
مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے فراڈ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ سنگاپور میں ایک متاثرہ شخص کو ڈیپ فیک سکیم کے ذریعے تقریباً چالیس لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اب دنیا بھر کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سائبر مجرم اب حکام اور معروف عوامی شخصیات کی ہو بہو آواز اور شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے اصلی اور نقل میں تمیز کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرینِ ایس آئی اور سیکیورٹی محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے فراڈ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور مجرم اس کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سنگاپور سے سامنے آنے والے ایک حالیہ اور ہوشربا واقعے نے اس خطرے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا ہے، جہاں ایک بدقسمت متاثرہ شخص کو ڈیپ فیک فراڈ کا نشانہ بنایا گیا اور اسے تقریباً چالیس لاکھ امریکی ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف مالی تباہی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر عوامی اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچا رہے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز مزید پیچیدہ اور طاقتور ہوتے جا رہے ہیں، اسی نسبت سے جرائم کے طریقوں میں بھی جدت آ رہی ہے۔ حکومتیں اور سائبر سیکیورٹی ادارے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں، تاہم عوام کو بھی اس حوالے سے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس طرح کے جدید فریب کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔