LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور امریکی پابندیوں کا اثر

News Image
بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کار امریکی وزیر خزانہ کی متوقع پریس کانفرنس اور ایران پر نئی پابندیوں کے اثرات کا انتظار کر رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں کاروباری دن کے آغاز پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور قیمتیں تقریباً دو فیصد تک گر چکی ہیں۔ یہ گراوٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرمایہ کاروں کی توجہ مکمل طور پر آنے والے اہم اقتصادی اعلانات اور واشنگٹن کی طرف سے تہران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر مرکوز ہے۔ منڈی کے ماہرین اس صورتحال کو انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کے براہ راست اثرات عالمی توانائی کی سپلائی پر پڑ سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، خام تیل کی قیمتوں میں اس تنزلی کی بنیادی وجہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت پابندیوں کے نفاذ کا خدشہ ہے۔ روئٹرز اور سی این بی سی جیسے معتبر ذرائع ابلاغ کے مطابق، سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ یہ پابندیاں عالمی توانائی کی منڈی میں رسد کے بحران کو جنم دے سکتی ہیں، جس کی وجہ سے منڈی میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی اقتصادی پالیسیوں اور آئندہ کے معاشی اقدامات کے حوالے سے بھی کاروباری حلقے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، مارکیٹ کے شرکاء کا دھیان اس وقت اعلیٰ سطحی پریس کانفرنسز اور اہم اقتصادی اعلانات پر بھی ہے جنہیں ماہرین 'معاشی ڈی ڈے' سے بھی تعبیر کر رہے ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں امریکی معاشی ٹیم کی جانب سے اہم پالیسیوں کا اعلان متوقع ہے جو آنے والے دنوں میں توانائی کے شعبے اور مالیاتی منڈیوں کی سمت کا تعین کریں گی۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک ان پالیسیوں اور پابندیوں کا دائرہ کار واضح نہیں ہوتا، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔