LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی امداد اور یوکرین کے میزائل پروگرام کی تازہ ترین صورتحال

News Image
برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو خود ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنانے کے لیے بلیو پرنٹس فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس اقدام سے یوکرین کو مدد مل سکتی ہے، لیکن یہ ان ہتھیاروں کا مکمل متبادل نہیں جن کی یوکرین کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
برطانیہ نے یوکرین کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے بلیو پرنٹس کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کییف کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ ملکی دفاع کے لیے اپنے طور پر جدید میزائل تیار کر سکے اور اپنی عسکری خود کفالت کو فروغ دے سکے۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق، یہ امداد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کو روس کے خلاف جاری تنازع میں کئی طرح کے تزویراتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ یہ تکنیکی دستاویزات یوکرین کے دفاعی صنعتی شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم، ماہرین یہ بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اگرچہ میزائلوں کی مقامی تیاری کے یہ بلیو پرنٹس طویل مدت میں انتہائی مفید ثابت ہوں گے، لیکن یہ فوری طور پر ان ہتھیاروں کی کمی کو پورا نہیں کر سکتے جن کی یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو میدان جنگ میں سب سے زیادہ اور فوری ضرورت ہے۔ یوکرین کو اس وقت ایسے تیار شدہ جدید عسکری آلات اور میزائل سسٹمز درکار ہیں جو دشمن کی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دے سکیں۔ دوسری جانب، اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ تجزیہ کار اسے یوکرین کے ساتھ طویل المدتی دفاعی شراکت داری کو مستحکم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ یوکرین اس تکنیکی امداد کو کتنی جلدی عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتا ہے اور کیا یہ اس جنگ کے تناظر میں کوئی فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکے گا یا نہیں۔