Sports
کامن ویلتھ فائنل: رومیش پتھیراجا کا نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کو چیلنج
سری لنکا کے رومیش پتھیراجا نے کامن ویلتھ فائنل کے جیولن تھرو مقابلے میں فیورٹ کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اس پیش رفت سے بھارت کے نیرج چوپڑا اور پاکستان کے ارشد ندیم کے درمیان روایتی برتری کا مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔
کامن ویلتھ گیمز کے فائنل میں جیولن تھرو کے مقابلے میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے جہاں سری لنکا کے باصلاحیت ایتھلیٹ رومیش پتھیراجا نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔ روایتی طور پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ فائنل میں اصل مقابلہ بھارت کے معروف اسٹار نیرج چوپڑا اور پاکستان کے مایہ ناز جیولن تھرو کھلاڑی ارشد ندیم کے درمیان ہی ہوگا، تاہم رومیش پتھیراجا کی شاندار کارکردگی نے اس روایتی حریفانہ کشمکش کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور اب وہ اس مقابلے کے لیے ایک بڑے فیورٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کے درمیان بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ سے ایک سنسنی خیز اور دوستانہ مقابلہ دیکھا گیا ہے، جس نے جنوبی ایشیا میں اس کھیل کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں اپنی شاندار صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور بڑے ایونٹس میں میڈلز اپنے نام کیے ہیں۔ شائقین اور ماہرین کی تمام تر توجہ انہی دونوں پر مرکوز تھی، لیکن سری لنکا کے رومیش پتھیراجا نے اپنی مسلسل بہترین ٹریننگ اور حالیہ تھروز سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں اور گولڈ میڈل کے لیے ایک انتہائی مضبوط امیدوار ہیں۔
اس صورتحال نے کامن ویلتھ فائنل کو مزید مسابقتی اور ناگزیر بنا دیا ہے۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اب یہ مقابلہ صرف دو کھلاڑیوں کے درمیان نہیں رہا بلکہ ایک سہ جانبہ جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ فائنل کے دن دباؤ دونوں طرف کے ایتھلیٹس پر ہوگا، اور جو بھی کھلاڑی میدان میں اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے بہترین تھرو کرے گا، فتح اسی کا مقدر بنے گی۔ سری لنکن کیمپ میں رومیش پتھیراجا کی حالیہ کامیابیوں کی وجہ سے کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے اور وہ اپنے ملک کے لیے تاریخ رقم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان کے ارشد ندیم اور بھارت کے نیرج چوپڑا بھی اپنی بہترین فارم میں ہیں اور وہ اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دونوں برصغیر کے حریفوں کے درمیان ایک بار پھر سے سخت مقابلہ متوقع ہے، جس میں اب سری لنکن چیلنج نے ایک نیا مصالحہ ڈال دیا ہے۔ کھیلوں کے شائقین اس تاریخی فائنل کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں جہاں یہ تینوں ایتھلیٹس جیولن تھرو کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔