World
امریکہ کی ایران پر پابندیاں اور چین کی تیل کی خریداری
امریکہ کی جانب سے ایران پر کڑی اقتصادی پابندیوں کی دھمکی کے بعد چین کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکی دباؤ اور ناکہ بندی کی وجہ سے چین کی ایرانی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ اور سخت اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے پیش نظر چین کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری عالمی منڈی میں شدید بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ چین گزشتہ کئی برسوں سے ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے، اور حالیہ امریکی دھمکیوں کے بعد اس تجارتی تعلق پر ایک بار پھر بین الاقوامی برادری کی نگاہیں ٹک گئی ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس حوالے سے بیانات اور پالیسیوں کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں واشنگٹن تہران کی تیل برآمدات کو صفر تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی فرم 'کیپلر' کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال چین کی ایرانی تیل کی درآمدات اوسطاً 14 لاکھ بیرل یومیہ تھیں، جو اب امریکی پابندیوں اور سخت ناکہ بندی کے باعث نمایاں طور پر کم ہو چکی ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں پر لگائی جانے والی نئی پابندیوں نے تیل کی سپلائی لائن کو شدید متاثر کیا ہے، اور آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اگرچہ چند جہاز اپنے ٹرانسپونڈرز بند کر کے اس ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم مجموعی حجم میں گراوٹ واضح ہے۔ رواں برس کے مختلف مہینوں میں چین کی درآمدات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، اور اگست کے ابتدائی ایام میں یہ اعداد و شمار مزید کم ہو کر 5 لاکھ 34 ہزار بیرل یومیہ تک آ گئے ہیں۔ دوسری جانب، چین میں اس ایرانی تیل کے خریدار زیادہ تر آزاد ریفائنریز ہیں جو سستے داموں دستیاب تیل کی وجہ سے اس تجارت سے وابستہ ہیں۔ چین کی بڑی سرکاری ریفائنریز نے 2019 میں امریکہ کی جانب سے پہلی بار دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سے ایرانی تیل سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے، یہی وجہ ہے کہ چین کے سرکاری کسٹم ڈیٹا میں ایرانی تیل کی خریداری کا کوئی باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔ تکنیکی طور پر، ایران سے آنے والا تیل طویل عرصے سے ملائیشیا اور حالیہ دنوں میں انڈونیشیا کے نام سے ظاہر کیا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی چینی کرنسی میں پیچیدہ ترسیلی ذرائع کے ذریعے کی جاتی ہے۔ واشنگٹن نے اس سلسلے میں متعدد چھوٹی چینی ریفائنریز اور جہاز رانی کی کمپنیوں پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں، اور کچھ بڑے چینی بینکوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے سسٹمز کے ذریعے ایرانی فنڈز کی ترسیل جاری رہی تو انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود، چین کا سرکاری مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں کو مسترد کرتا ہے اور تمام تنازعات کا حل سفارتی اور سیاسی ذرائع سے نکالنے پر زور دیتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان یہ اقتصادی رسہ کشی آنے والے دنوں میں عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔