LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اپیل عدالت کا تارکین وطن کی لازمی حراست سے متعلق بڑا فیصلہ

News Image
امریکی عدالتِ اپیل نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ انتظامیہ حراست میں لیے گئے تارکین وطن کو ضمانت پر رہائی کا موقع دینے سے انکار نہیں کر سکتی۔ اس عدالتی فیصلے کو تارکین وطن کے حقوق کے حامیوں کی بڑی قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی ایک فیڈرل اپیل عدالت نے سابقہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت تارکین وطن کو ضمانت پر رہائی کے حق سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ تارکین وطن کو جنہیں حراست میں لیا گیا ہے، قانونی عمل کے تحت ضمانت پر رہائی کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے۔ عدالت کا یہ فیصلہ تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور قانون دانوں کے لیے ایک اہم کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، جن کا کہنا تھا کہ لازمی حراست کا یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھا۔ یہ قانونی جنگ پچھلے کئی سالوں سے امریکی عدالتوں میں جاری تھی جہاں تارکین وطن کی حراست کے حوالے سے مختلف نوعیت کے احکامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس تازہ ترین فیصلے کے بعد اب ہزاروں ایسے تارکین وطن کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو حراست کے دوران ضمانت کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کے منتظر تھے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نچلی عدالتوں کو بھی واضح سمت ملے گی اور تارکین وطن کے مقدمات کی سماعت کے دوران ضمانت کے دروازے کھلے رہیں گے۔ دوسری جانب، اس فیصلے پر انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی جانب سے مزید قانونی لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیا ہے۔