LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان

News Image
امریکی وزیر تعلیم لنڈا میک موہن نے ایک خوفناک مطالعے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے تقریباً 10 فیصد طلباء جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ حکومت نے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے اور بچوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی وزیر تعلیم لنڈا میک موہن نے اتوار کے روز ایک انتہائی تشویشناک اور ہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نئے مطالعے کے مطابق اسکول جانے والے تقریباً 10 فیصد بچوں کو ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزیر تعلیم نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ محکمہ تعلیم بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تعلیمی اداروں میں طلباء کی حفاظت اور ان کے نفسیاتی و جسمانی تحفظ کے حوالے سے بحث کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہو چکا ہے۔ لنڈا میک موہن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ حکومت اس گھناؤنے جرم کو مزید برداشت نہیں کرے گی اور اسکولوں کی سطح پر حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی فلاح و بہبود اور ان کا تحفظ موجودہ انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی اور ریاستی سطح پر تعلیمی اداروں کے نظامِ کار کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ایسے عناصر کو روکا جا سکے جو بچوں کے تحفظ کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ محکمہ تعلیم اسکولوں کے عملے کی تربیت اور کونسلنگ کے نظام کو بھی بہتر بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور فلاحی تنظیموں نے بھی وزیر تعلیم کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بچوں کے خلاف ہونے والے ان جرائم کے سدباب کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ معاشرتی سطح پر بیداری مہم چلانے اور والدین اور اساتذہ کے درمیان بہتر مواصلت قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ بچے بلا خوف و خطر اپنی شکایات حکام تک پہنچا سکیں۔ امریکی حکومت کا یہ عزم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے مزید سخت قوانین اور ضابطے نافذ کیے جا سکتے ہیں۔