Technology
ملازمین کی نگرانی کرنے والی ایپس کا ڈیٹا لیک سکینڈل
ملازمین کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی مختلف ایپس نے نہ صرف کام کی جگہ پر عملے کی جاسوسی کی بلکہ ان کا انتہائی حساس ڈیٹا فیس بک اور ایک روسی سرچ انجن کو بھی منتقل کیا۔ اس واقعے کے بعد کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمین کی پرائیویسی پر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
نیکسورا نیوز کے مطابق جدید دور میں ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے اور ان پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کی جانے والی مختلف ڈیجیٹل ایپس اور مانیٹرنگ ٹولز کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایپس نہ صرف دفاتر میں ملازمین کی نگرانی کر رہی تھیں بلکہ ان کا انتہائی حساس ذاتی ڈیٹا غیر متعلقہ فریقین بالخصوص فیس بک اور ایک روسی سرچ انجن کو بھی شیئر کر رہی تھیں۔ اس صورتحال نے ملازمین کے بنیادی حقوق اور ڈیجیٹل پرائیویسی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کالجوں کے منتظمین اس بات کی نگرانی کرتے رہے کہ جز وقتی اساتذہ اپنے طلبا کے ساتھ ذاتی مضامین میں کس قسم کے تبصرے کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایک فارماسسٹ کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ اپنے مریضوں کے ساتھ ملاقاتوں میں زیادہ وقت صرف کرتی ہے، کیونکہ مانیٹرنگ ایپس نے اس کی تمام سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھا ہوا تھا۔ اس طرح کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے نجی زندگی اور پروفیشنل امور کی حدود مٹتی جا رہی ہیں اور ملازمین ہر وقت ڈیجیٹل سکیورٹی کی زد میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملازمین کی نگرانی کے لیے بننے والے یہ سافٹ ویئر اکثر پچھلے دروازے سے صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں اور اسے تجارتی مقاصد کے لیے بڑی ٹیک کمپنیوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ اس معاملے نے ریگولیٹری اداروں اور حکومتوں کی توجہ بھی مبذول کرائی ہے تاکہ ایسی ایپس کے خلاف سخت قوانین بنائے جائیں جو پرائیویسی کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ کارپوریٹ اداروں کی طرف سے اس نوعیت کی جاسوسی سے ملازمین میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔
اس سنگین معاملے کے سامنے آنے کے بعد مزدور یونینز اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری طور پر ایسی نگرانی کرنے والی ایپس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ ملازمین کو اپنی ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ کے لیے ایسے آلات اور سافٹ ویئر کے استعمال کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے جو ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس سکینڈل کے مزید قانونی پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔