Technology
امریکہ میں کم ہوتی گفتگو اور سلیکن ویلی کا اثر
امریکہ میں حالیہ مطالعات سے انکشاف ہوا ہے کہ شہری اب ایک دوسرے سے اٹھائیس فیصد کم الفاظ بولتے ہیں اور پچہتر فیصد نوجوان اپنے پڑوسیوں سے بات نہیں کرتے۔ اس صورتحال کی بڑی وجہ سیکن ویلی کی جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سکرینز کا حد سے زیادہ استعمال قرار دی جا رہی ہے۔
امریکہ میں سماجی میل جول اور روایتی گفتگو کے انداز میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے، جس نے ماہرینِ سماجیات اور محققین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، امریکی شہریوں کے درمیان بولے جانے والے الفاظ کی تعداد میں اٹھائیس فیصد تک کمی آ چکی ہے۔ لوگ اب ایک دوسرے سے آمنے سامنے بات کرنے کے بجائے ڈیجیٹل ذرائع یا تنہائی کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر معاشرتی رشتوں پر پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پچہتر فیصد نوجوان اپنے پڑوسیوں سے بات چیت کرنے سے گریز کرتے ہیں اور پڑوس کی حد تک بھی سماجی تعلقات ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔
اس سنگین صورتحال کا ذمہ دار براہِ راست سلیکن ویلی اور اس کی جدید ٹیکنالوجی کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ سمارٹ فونز، سوشل میڈیا ایپلیکیشنز، اور لامتناہی سکرین ٹائم نے انسانوں کو حقیقی دنیا سے کاٹ کر ڈیجیٹل دنیا میں قید کر دیا ہے۔ لوگ اپنے فونز اور سکرینز میں اس قدر محو رہتے ہیں کہ انہیں اپنے اردگرد موجود انسانوں کا ہوش نہیں رہتا۔ سلیکن ویلی کی کمپنیاں اس طرح کے الگورتھم تیار کرتی ہیں جو صارفین کو گھنٹوں اپنے پلیٹ فارمز پر جکڑے رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں حقیقی زندگی کے میل جول اور روایتی ملاقاتوں کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے اور باہمی گفتگو ذہنی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جب معاشرے میں بول چال اور بالمشافہ ملاقاتیں کم ہو جاتی ہیں تو اس سے ڈپریشن، بے چینی اور تنہائی کے احساسات میں اضافہ ہوتا ہے۔ نوجوان نسل جو پہلے ہی ڈیجیٹل دور میں پروان چڑھ رہی ہے، اس تنہائی کا سب سے زیادہ شکار ہو رہی ہے۔ پڑوسیوں اور قریبی لوگوں سے کٹنے کی وجہ سے معاشرتی یکجہتی کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور لوگ اپنے ہی محلوں میں اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ڈیجیٹلڈیٹوکس اور حقیقی دنیا کے تعلقات کو بحال کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ حکومتوں اور ماہرین کو چاہیے کہ وہ ایسے لائحہ عمل تیار کریں جس سے نوجوانوں کو سکرین کے استعمال کو محدود کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ اگر امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ رجحان یوں ہی جاری رہا تو آنے والے وقتوں میں انسانی تعلقات مزید کمزور ہو جائیں گے اور معاشرے مکمل طور پر انفرادی جزیروں میں تقسیم ہو جائیں گے۔