Technology
قابلِ تکسیر کافی کا کپ: گیارہ سال بعد بھی مارکیٹ میں کیوں نہیں پہنچ سکا
کیلیفورنیا کے ایک ڈیزائن طالب علم نے سنہ 2015 میں پودے اگانے والے قابلِ تکسیر کافی کے کپ کا تصور پیش کیا تھا جو تاحال مارکیٹ میں فروخت کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ گرم مشروبات کی حفاظت کرنے اور بعد میں زمین میں تحلیل ہونے والے مواد کی عدم دستیابی اس بڑی تاخیر کی اصل وجہ ہے۔
سنہ 2015 میں کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیزائن کے طالب علم نے کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم کِک اسٹارٹر کے ذریعے اکیس ہزار سے زائد ڈالر کی رقم جمع کر کے ایک انتہائی منفرد اور ماحول دوست کافی کے کپ کا تصور پیش کیا تھا۔ اس انوکھے خیال کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ شہری کافی پینے کے بعد اس کپ کو زمین میں دبا دیں جس سے پودے پھوٹ سکیں اور اس طرح فضلے اور ماحولیاتی آلودگی میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔ تاہم، اس بات کو پورے گیارہ سال گزر چکے ہیں اور یہ انقلابی تصور آج بھی عام مارکیٹ یا دکانوں کی شیلفوں تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ اس بہترین خیال کے عملی نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک ایسے مواد کی تیاری ہے جو بیک وقت دو متضاد کام انجام دے سکے۔
اس تکنیکی چیلنج کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کافی کے کپ کو اندر سے گرم اور مائع مشروبات کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنی چاہیے تاکہ پینے والے کے ہاتھ یا کپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، اور ساتھ ہی اسے استعمال کے فوراً بعد قدرتی ماحول میں باآسانی تحلیل بھی ہو جانا چاہیے۔ روایتی طور پر کافی کے کپوں میں پلاسٹک یا موم کی تہہ لگائی جاتی ہے جو گرم مشروبات کو لیک ہونے سے بچاتی ہے لیکن یہی تہہ کپ کو گلنے سڑنے سے بھی روکتی ہے۔ ڈیزائنرز اور محققین طویل عرصے سے ایک ایسے قابلِ تکسیر مواد کی تلاش میں تھے جو گرمی کو بھی برداشت کرے اور زمین میں پھینکے جانے پر بغیر کسی زہریلے اثر کے قدرتی طور پر ختم ہو جائے۔
اب حالیہ پیش رفت کے مطابق، جدید کمپوسٹ اس کی کوٹنگز اور بائیو میٹریلز میں ہونے والی نئی تحقیق نے اس طویل مدتی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی امید پیدا کر دی ہے۔ سائنسدان اور مٹیریل انجینئرز ایسے نئے نامیاتی مرکبات پر کام کر رہے ہیں جو گرم مائع کو بھی روکیں اور مناسب ماحول ملنے پر چند ہفتوں کے اندر زمین میں تحلیل ہو کر کھاد کا حصہ بن جائیں۔ اگر یہ نئی کوٹنگز کامیاب ثابت ہو جاتی ہیں تو آنے والے دنوں میں یہ پودے اگانے والا کافی کا کپ آخرکار عام صارفین کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہو سکے گا۔ یہ ماحول دوست ایجاد روایتی پلاسٹک کے کپوں کے استعمال کو کم کرنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے جو ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جاری جنگ میں مدد دے گی۔