LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ انتظامیہ کا ملک بدری کے لیے غیر معمولی عدالتی اقدام

News Image
امریکی حکومت نے نذیر حاجی زادہ کی ملک بدری کے لیے ایک ایسے عدالتی فورم سے رجوع کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شخص کو کسی بھی قسم کے فوجداری الزامات کا سامنا نہیں ہے۔
واشنگٹن: امریکی حکومت کے استغاثہ نے نذیر حاجی زادہ نامی فرد کی ملک بدری کے لیے ایک انتہائی غیر معمولی قانونی قدم اٹھایا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک ایسی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے جسے تاریخ میں پہلے کبھی اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کیس کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ نذیر حاجی زادہ کے خلاف کوئی بھی فوجداری یا مجرمانہ الزام عائد نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ قانونی حلقوں میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ قانونی ماہرین اس بات پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ بغیر کسی مجرمانہ پس منظر یا الزامات کے اس نوعیت کا سخت قانونی قدم کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، امریکی حکومت کے اس اقدام سے امیگریشن اور ملک بدری کے قوانین میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاریخی طور پر اس عدالت کا استعمال اس طرح کے تارکین وطن کے خلاف نہیں کیا گیا تھا، اسی لیے اس اپیل کو عدالتی تاریخ میں ایک منفرد حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تارکین وطن کے حقوق پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ٹھوس مجرمانہ الزام کے اس طرح کے سخت اقدامات سے انصاف کے تقاضے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ دوسری جانب، انتظامیہ کے حامیوں کا موقف ہے کہ قومی سلامتی اور ملکی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے لیے ایسے غیر روایتی اور منفرد قانونی راستے اختیار کرنا ناگزیر ہو چکے ہیں۔ یہ مقدمہ آنے والے دنوں میں امریکی امیگریشن نظام کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے کیونکہ عدالت کی جانب سے اس پر آنے والا فیصلہ آئندہ کے لیے پالیسی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ قانونی جنگ طویل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ دفاعی وکلاء اس انوکھے طریقہ کار کو عدالت میں چیلنج کرنے کی مکمل تیاری کر رہے ہیں۔