World
جنگ کے دوران انتخابات یوکرین کے لیے تباہ کن ہوں گے: زیلنسکی
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ جاری جنگ کے دوران انتخابات کا انعقاد ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ ان کا یہ بیان سابق وزیر دفاع کی جانب سے جنگی حالات میں ووٹنگ کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری شدید مسلح تنازع اور فعال لڑائی کے اس نازک دور میں ملک کے اندر عام انتخابات کا انعقاد یوکرین کو اندرونی طور پر تباہ اور تقسیم کر کے رکھ دے گا۔ صدر زیلنسکی کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے اندر سیاسی ہلچل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
حال ہی میں یوکرین کے سابق وزیر دفاع میخائیلو فیڈروف نے ایک بیان میں زور دیا تھا کہ ملک میں جنگی حالات کے باوجود جمہوری عمل کو بحال کرتے ہوئے ووٹنگ کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ تاہم موجودہ صدر نے اس تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت ملک کی اولین ترجیح بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنا اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ یوکرین میں اس وقت لاکھوں شہری بے گھر ہو چکے ہیں، لاکھوں افراد ملک سے باہر مقیم ہیں اور ملک کے بڑے حصوں پر جنگ کے براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں انتخابی عمل کا انعقاد نہ صرف تکنیکی لحاظ سے انتہائی مشکل ہے بلکہ اس سے داخلی انتشار کا خدشہ بھی ہے جس سے دشمن کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
صدر زیلنسکی نے عالمی برادری اور یوکرین کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مل کر ملکی دفاع پر توجہ مرکوز رکھیں اور ایسے کسی بھی اندرونی سیاسی دباؤ سے گریز کریں جو ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچا سکے۔ حکومت کا موقف ہے کہ امن کی بحالی اور مکمل فتح کے بعد ہی آئینی تقاضوں کے مطابق عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔