Technology
ہیومنائڈ روبوٹس نے یوسین بولٹ کا دوڑ کا ریکارڈ توڑ دیا
چینی ہیومنائڈ روبوٹس نے عالمی سطح پر منعقدہ مقابلوں میں معروف ایتھلیٹ یوسین بولٹ کا 100 میٹر دوڑ کا ریکارڈ توڑنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تاہم، دوڑ کے اختتام پر روبوٹس کی جانب سے رفتار کو سنبھال نہ پانے اور رکاوٹ سے ٹکرانے کے واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں ابھی مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
حال ہی میں منعقد ہونے والے عالمی ہیومنائڈ روبوٹ گیمز میں چینی ساختہ روبوٹس نے دنیا کو دنگ کر دیا۔ ان جدید روبوٹس نے نہ صرف تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا بلکہ دوڑ کے میدان میں معروف ترین اولمپک چیمپئن یوسین بولٹ کا 100 میٹر دوڑ کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔ یہ روبوٹکس کی دنیا میں ایک بہت بڑی سائنسی کامیابی تسلیم کی جا رہی ہے جس نے مستقبل کے نقل و حرکت کے نظام پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ اس حیرت انگیز کارکردگی کے بعد ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور میکینیکل انجینئرنگ کے امتزاج نے روبوٹس کو انسانوں کی طرح تیز دوڑنے کے قابل بنا دیا ہے۔
تاہم، اس تاریخی کامیابی کے ساتھ ہی روبوٹس کے تکنیکی نقائص اور توازن کے مسائل بھی کھل کر سامنے آ گئے۔ تیز رفتار دوڑنے کے بعد روبوٹس اپنے قدموں پر مکمل کنٹرول برقرار نہ رکھ سکے اور اختتامی لکیر کے قریب پہنچ کر براہ راست حفاظتی رکاوٹ سے جا ٹکرائے۔ اس حادثے نے یہ ثابت کر دیا کہ اگرچہ مشینوں نے رفتار کے معاملے میں انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، لیکن کچی زمین یا غیر ہموار راستوں پر توازن برقرار رکھنا اور اچانک رکنے کی صلاحیت پیدا کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز کا بنیادی مقصد محض روبوٹس کی تیز رفتاری جانچنا نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا بھی ہے کہ آیا یہ مشینیں حقیقی دنیا کے پیچیدہ ماحول میں مؤثر انداز میں کام کر سکتی ہیں یا نہیں۔ اس طرح کے مقابلے انجینئرز کو اس بات کا موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ روبوٹس کے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر میں موجود خامیوں کا جائزہ لیں اور انہیں عملی زندگی کے قابل بنائیں۔
مستقبل کے حوالے سے سائنسی برادری کا ماننا ہے کہ اگر ان روبوٹس کے بریکنگ سسٹمز اور بیلنسنگ میکانزم کو مزید بہتر بنا لیا جائے تو یہ ہنگامی حالات، ریسکیو آپریشنز اور دیگر مشکل ترین شعبوں میں انسانوں کے سب سے بڑے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ موجودہ حادثہ بظاہر ایک مزاحیہ یا ناکام منظر لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ روبوٹکس کی ترقی کی راہ میں ایک اور سنگِ میل ہے۔