Technology
خلائی مواصلات کے لیے انکر سنگھ بترا کی اسٹارٹ اپ نے 4.3 ملین ڈالر جمع کیے
جموں میں پیدا ہونے والے انکر سنگھ بترا نے اپنی نئی خلائی مواصلات کی اسٹارٹ اپ کے لیے 43 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے۔ وہ ماضی میں کم ترین عمر کے ویب ماسٹر ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔
جموں میں پیدا ہونے والے انکر سنگھ بترا نے ایک بار پھر اپنی شاندار صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے خلائی مواصلات کے شعبے میں ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ بچپن میں صرف سات سال کی عمر میں انکر نے دنیا کے کم ترین عمر کے میل ویب ماسٹر کی حیثیت سے گینز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا تھا، اور اب بیس سال کی عمر میں وہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا نام بن چکے ہیں۔ ان کی قائم کردہ اسٹارٹ اپ 'اپولنک' (Apolink) نے خلائی مواصلات کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے 43 لاکھ ڈالر کی خطیر فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔
موجودہ دور میں خلائی تحقیقات اور سیٹلائٹس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم زمین پر موجود اسٹیشنز کی حد سے باہر ہونے کی وجہ سے سیٹلائٹس کا رابطہ منقطع ہونا ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ انکر سنگھ بترا کی اسٹارٹ اپ 'اپولنک' اسی اہم مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ جدید ترین نظام چھوٹے سیٹلائٹس کو ڈیٹا ٹرانسمیشن کے لیے ریلے پوائنٹس کے طور پر استعمال کرتا ہے، جس سے زمین سے باہر موجود خلائی آلات اور سیٹلائٹس کے درمیان بلا تعطل مواصلاتی رابطہ ممکن ہو سکے گا۔
اس تازه ترین سرمایہ کاری کے حصول کے بعد انکر اور ان کی ٹیم کو اپنے اس اہم پروجیکٹ کو تیزی سے وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق، خلائی صنعت میں مواصلات کا یہ نواورانہ طریقہ کار مستقبل میں سیٹلائٹس کے مابین ڈیٹا کے تبادلے کو انتہائی محفوظ اور تیز رفتار بنا دے گا۔ دنیا بھر میں انکر کی اس کامیابی کو کم عمر ترین کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک روشن مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو آنے والے وقت میں خلائی مشنز کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔