LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فوج کا خودکار ڈرون شکن فورڈ ٹرک کا تجربہ

News Image
امریکی فوج نے فورٹ براگ میں ایک لائیو فائر مشق کے دوران خودکار فورڈ ایف 250 ٹرک کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو ڈرون طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پروجیکٹ سینڈ ہلز 2.0 کے تحت اس خود مختار نظام کو دشمن کے ڈرونز کو فضا میں ناکارہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
امریکی فوج نے حال ہی میں فورٹ براگ کے مقام پر ایک لائیو فائر مشق کے دوران ایک جدید خودکار فورڈ ایف 250 ٹرک کا تجربہ کیا ہے، جو ڈرون طیاروں کو تباہ کرنے والی ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ یہ تجربہ پروجیکٹ سینڈ ہلز 2.0 کے سلسلے کا حصہ تھا، جس کا مقصد میدان جنگ میں خود مختار گاڑیوں کی صلاحیتوں کو پرکھنا اور دشمن کے فضائی خطرات سے نمٹنا ہے۔ اس خود ڈرائیونگ ٹرک پر ایک خاص کاؤنٹر یو اے ایس ٹرٹ نصب کی گئی ہے جو کم فاصلے پر تیز رفتار ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس عسکری ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بغیر کسی انسانی ڈرائیور کے مشکل ترین خطوں میں سفر کر سکتی ہے اور آن بورڈ سسٹمز کی مدد سے اپنے اہداف کا خود تعین کرتی ہے۔ ٹرک پر نصب شٹ گن طرز کی ٹرٹ 10 سے 100 میٹر کے فاصلے کے اندر موجود متحرک ڈرونز کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ جدید جنگی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، امریکی فوج اس بات پر زور دے رہی ہے کہ میدانِ جنگ میں فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر خودکار سسٹمز کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کیا جائے۔ تجربے کے دوران اس خود مختار نظام نے مختلف سمتوں سے آنے والے نقلی ڈرون حملوں کا کامیابی سے دفاع کیا اور سیکنڈوں کے اندر اہداف کو تباہ کر دیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، مستقبل کی جنگوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی بڑھ جائے گا، اور اس نوعیت کے خودکار ہتھیاروں کی ضرورت ہر فوج کو ہوگی۔ پروجیکٹ سینڈ ہلز 2.0 کے تحت ہونے والے ان تجربات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مستقبل میں مزید بہتری لانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی کام کرنے کی صلاحیت زمینی دستوں کے تحفظ کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ روایتی فضائی دفاعی نظام اکثر چھوٹے اور سستے ڈرونز کے خلاف غیر موثر یا مہنگے ثابت ہوتے ہیں، جب کہ اس قسم کے ٹرک کم لاگت اور تیز ترین ردعمل کے ذریعے فضائی حدود کو محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ امریکی فوج آنے والے مہینوں میں اس نظام کی مزید آزمائش کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اسے باقاعدہ جنگی یونٹس کا حصہ بنایا جا سکے۔