LIVE
Loading Breaking News...

آرمی چیف کی ٹرمپ سے گفتگو، تہران کا دورہ اور علاقائی امن کی کوششیں

News Image
پاکستانی فوج کے سربراہ نے تہران کے دورے سے قبل نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے۔ اس اہم سفارتی رابطے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور امن مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔
باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ تہران سے قبل نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ اس اہم ترین رابطے کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور تہران کے ساتھ جاری سفارتی ڈیڈلاک کو توڑنے کے لیے فضا ہموار کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک پرامن مصالحتی کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ تمام فریقین کے درمیان بات چیت کے دروازے کھولے جا سکیں۔اسی سلسلے میں اعلیٰ پاکستانی حکام نے ایرانی قیادت سے بھی ملاقاتیں کی ہیں جن میں خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ سفارتی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان دیرینہ تناؤ پورے خطے کے امن اور معیشت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستانی فوجی قیادت کی جانب سے تہران کے دورے اور امریکی قیادت سے رابطے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اسلام آباد خطے میں کسی بھی بڑی عسکری یا معاشی بحران کو روکنے کے لیے متحرک سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ اس دورے کے دوران پاک ایران تعلقات بالخصوص سرحدی سکیورٹی اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان اعلیٰ سطحی رابطوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور باہمی اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی، جس سے نہ صرف پاکستان اور ایران کے تعلقات بلکہ وسیع تر خطے کے امن کو بھی تقویت ملے گی۔