World
انگلش چینل مہاجرین کیس: نوجوان کا سمندر میں زندگیاں خطرے میں ڈالنے کا اعتراف
برطانیہ اور فرانس کے درمیان انگلش چینل میں ایک ہی کشتی پر ریکارڈ تعداد میں مہاجرین کو لے جانے والے نوجوان نے سمندر میں زندگیاں خطرے میں ڈالنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ عدالت میں پیش ہونے والے اس نوجوان نے مہاجرین کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حمل کے الزامات تسلیم کیے ہیں۔
برطانیہ اور فرانس کے درمیان واقع انگلش چینل میں غیر قانونی تارکین وطن کی ایک بڑی کشتی کو خطرناک انداز میں چلانے والے ایک نوجوان نے عدالت کے سامنے اپنے اوپر عائد الزامات تسلیم کر لیے ہیں۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس نوجوان نے ایک ایسی ربڑ کی ڈنگی کشتی کی پائلٹنگ کی تھی جس پر اس وقت کے ریکارڈ کے مطابق 165 مہاجرین سوار تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک چھوٹی اور غیر محفوظ کشتی میں سمندر پار کروانے کی کوشش نے سینکڑوں افراد کی زندگیوں کو شدید خطے میں ڈال دیا تھا۔ برطانوی عدالت میں سماعت کے دوران مدعا علیہ نے سمندر میں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ یہ واقعہ غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف جاری تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خطرناک سمندری سفر انسانی اسمگلروں کی ہوس کا نتیجہ ہوتے ہیں جو معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ انگلش چینل کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کو اکثر اس قسم کے شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں ذرا سی غفلت بڑا المیہ بن سکتی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے اس قبیح کاروبار میں ملوث دیگر عناصر پر بھی شکنجہ کسا جائے گا۔ عدالت کی جانب سے مجرم کو جلد ہی سزا سنائے جانے کا امکان ہے، جو اس نوعیت کے دیگر جرائم پیشہ افراد کے لیے ایک مثال بنے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مقامی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مہاجرین کے محفوظ راستوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے خطرناک سمندری سفروں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔