LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کے اشتہاری پارٹنر کا تعلق اے آئی نیڈی فائی ایپس سے جڑ گیا

News Image
رپورٹس کے مطابق میٹا کے زیر ملکیت پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر ہزاروں 'نیڈی فائی' اے آئی ایپس کے اشتہارات چلائے گئے۔ ان متنازع اشتہارات کے تار چین میں میٹا کے ایک مصدقہ اشتہاری پارٹنر 'گیدر ون' سے جڑے ہوئے ہیں۔
فیس بک اور انسٹاگرام جیسے معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے کام کرنے والی 'نیڈی فائی' ایپس کے ہزاروں اشتہارات کے معاملے نے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ان متنازع اور غیر اخلاقی ایپس کے فروغ کے پیچھے چین میں موجود میٹا کے اپنے اشتہاری پارٹنر 'گیدر ون' کا ہاتھ پایا گیا ہے۔ یہ ایپس عام طور پر تصاویر سے کپڑے ہٹانے یا ڈیجیٹل طور پر قابل اعتراض مواد تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، جن کی تشہیر پر بین الاقوامی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا रहा ہے۔ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد میٹا کی پالیسیوں اور اس کے پارٹنرز کی جانچ پڑتال کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اشتہارات طویل عرصے سے بڑی خاموشی کے ساتھ فیس بک اور انسٹاگرام پر چل رہے تھے، جن کے ذریعے لاکھوں صارفین کو ان خطرناک ایپلی کیشنز تک رسائی فراہم کی جا رہی تھی۔ اس انکشاف کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے اور صارفین کی نجی زندگی کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کا اس قسم کا منفی استعمال نہ صرف معاشرتی اقدار کے منافی ہے بلکہ یہ سائبر سکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، میٹا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی اس قسم کے اشتہارات کے خلاف سخت پالیسی رکھتی ہے اور ان رپورٹوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا ان اشتہارات نے پلیٹ فارم کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس واقعے کے بعد میٹا اپنے اشتہاری پارٹنرز کے حوالے سے مزید سخت اقدامات اٹھائے گا اور چین سمیت دیگر ممالک میں موجود ایجنسیوں کی مانیٹرنگ کو بھی مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ اس نوعیت کے واقعات کا دوبارہ اعادہ نہ ہو سکے۔