LIVE
Loading Breaking News...

اسٹارلنک کو حکومت ہند کا سخت انتباہ، بغیر لائسنس معاہدوں سے گریز کی ہدایت

News Image
حکومتِ ہند نے ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کے سینئر حکام کو سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ بغیر لائسنس حاصل کیے کسی بھی ریاست کے ساتھ ایم او یو پر دستخط نہیں کر سکتے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں تجارتی یا عملی سرگرمیاں شروع کرنے سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازم ہیں۔
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ایلون مسک کی زیر ملکیت سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹارلنک کے سینئر عہدیداروں کو سخت سرزنش کی ہے۔ حکومت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ کمپنی ملک کی کسی بھی ریاست کے ساتھ باضابطہ لائسنس حاصل کیے بغیر مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط نہیں کر سکتی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملک کے ٹیلی کمیونیکیشن کے قوانین اور ضوابط کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسٹارلنک کی جانب سے حال ہی میں کچھ بھارتی ریاستوں کے ساتھ تعاون اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ابتدائی نوعیت کے معاہدے کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس پر مرکزی وزارتِ مواصلات نے سخت نوٹس لیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ منظوری اور لائسنس کا حصول ناگزیر ہے، اور اس عمل کو نظر انداز کرنے والی کسی بھی تجارتی پیش قدمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس پیشرفت کے بعد، اسٹارلنک کے لیے بھارت میں اپنی تجارتی خدمات کے آغاز کا عمل مزید طویل ہو سکتا ہے۔ کمپنی کو ملک میں اپنی سیٹلائٹ بیسڈ براڈ بینڈ سروسز شروع کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی حکومت سے سکیورٹی کلیئرنس درکار ہے بلکہ ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی کے وضع کردہ اصولوں پر بھی سختی سے عمل پیرا ہونا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ملک کے ڈیجیٹل اور ٹیلی کام سیکٹر کے قوانین پر عمل درآمد کے معاملے میں انتہائی سخت مؤقف رکھتی ہے۔