LIVE
Loading Breaking News...

رچ میک کارمک کا امریکا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی توسیع پر انتباہ

News Image
رچ میک کارمک نے خبردار کیا ہے کہ امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کو سست کرنے سے بین الاقوامی تکنیکی مسابقتی دوڑ متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے توانائی کے وسائل پر پڑنے والے ممکنہ دباؤ اور پائیداری کے اہداف کے بارے میں بھی اہم خدشات کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تیزی سے ترقی کا عمل جاری ہے، تاہم اس دوران نئے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں رچ میک کارمک نے خبردار کیا ہے کہ امریکا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کے عمل کو سست نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر اس عمل میں تاخیر کی گئی تو عالمی سطح پر تکنیکی برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں امریکہ کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور حریف ممالک اس میدان میں سبقت لے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور ان کے تسلسل کے ساتھ آپریشنز کے لیے انتہائی زیادہ مقدار میں توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے مقامی توانائی کے وسائل پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال سے ماحولیاتی پائیداری کے وہ اہداف بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو حکومت اور مختلف ادارے صاف ستھری توانائی کے حصول کے لیے طے کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے ماہرینِ اقتصادیات اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ کس طرح توانائی کے بحران سے بچے بغیر اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دی جائے۔ ماہرین کا تقاضا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع کے درمیان ایک متوازن لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے توانائی کے بحران سے بچا جا سکے اور معاشی استحکام کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔